23 نومبر 2011 - 20:30

فلسطين ميں قومي آشتي کي کوششوں کے تحت جمعرات کو قاہرہ ميں حماس کے سياسي شعبے کے سربراہ خالد مشعل اور فلسطيني انتظاميہ کے صدر محمود عباس کے درميان ملاقات ہورہي ہے -

ابنا: فلسطيني اتھارٹي کے سربرہ محمود عباس اور حماس کے رہنما خالد مشعل چوبيس نومبر کو مصر کے ہنگامہ خيز دارالحکومت قاہرہ ميں ايک دوسرے سے ملاقات کر رہے ہيں جس ميں قومي آشتي معاہدے پر عملدر آمد کے بارے ميں تبادلہ خيال کيا جارہا ہے-اگرچہ اس معاہدے پر کئي ماہ قبل دونوں رہنماوں نے دستخط کئے تھے ليکن قريقين تاحال اس معاہدے کي مختلف شقوں پر عملدرآمد ميں کامياب نہيں ہوپائے- فلسطين ميں قومي حکومت کي تشکيل اور صدراتي و پارليماني انتخابات کي تاريخوں کا اعلان قومي آشتي معاہدے کي اہم شقيں ہيں- بہر حال فلسطيني اتھارٹي اور حماس کے درميان وزرات عظمي کے معاملے پر ہونے والے اتفاق رائے کے پيش نظر توقع ہے کہ آج ہونے والے مذاکرات فلسطين ميں قومي حکومت کے قيام کے حوالے سے نتيجہ خيز اور فيصلہ کن ثابت ہونگے-فلسطيني تنظيموں کے اختلافات ختم کرانے کي غرض سے مصري حکام کي وساطت سے مئي کے مہينے ميں قومي آشتي معاہدے پر دستخط کئے گئے تھے ليکن وزارت عظمي کا عہدہ سلام فياض کے سپرد کئے جانے کے معاملے پر فلسطيني اتھارٹي کے سربراہ کا اصرار، جنہيں حماس امريکي اور اسرائيلي پاليسيوں کا پيروکار سمجھتے ہيں، اس معاہدے کے راستے ميں ايک رکاوٹ بن گيا تھا- اسي دوران فلسطيني عوام کي منتخب کردہ حکومت کے وزير اعظم اسماعيل ہنیہ نے الفتح اور حماس کے عہديداروں کے درميان ہونے والے مذاکرات کا خير مقدم کرتے ہوئے اسرائيل کے ساتھ ہونے والے سازشي مذاکرات کي ناکامي کو قومي آشتي معاہدے پر عملدرآمد کي سب سے بڑي وجہ قرار ديا ہے- اسماعيل ہنيہ نے کہا کہ ايک ناظر کي حیثيت سے امريکہ کا مشرق وسطي ميں جاري امن کے عمل کا پابند نہ رہنا ، اور اسي طرح خطے کے عرب ملکوں ميں رونما ہونے والي تبديلياں دوسرے ايسے عوامل ہيں جنہوں نے فلسطينيوں کے درميان قومي آشتي کے معاملے کو اجاگر کرنے ميں اہم کردار ادا کيا ہے- اسرائيل کے ساتھ سازشي مذاکرات ميں شريک اعلي فلسطیني مذاکرات کار صائب عريقات نے بھي اميد ظاہر کي ہے کہ فلسطیني اتھارٹي کے سربراہ محمود عباس اور حماس کے رہنما خالد مشعل کےدرميان آج ہونے والي ملاقات باہمي اختلافات کے حل ميں اہم اور نتيجہ خيز ثابت ہوگي- دوسري جانب حماس کے پوليٹيکل بيورو کے اعلي عہديدار عزت الرشق نے کہا ہے کہ امريکہ اور صيہوني حکومت فلسطين ميں قومي اتحاد کے مخالف اور فلسطيني تنظيموں اور جہادي گروہوں کے درميان اختلافات جاري رہنے کے خواہاں ہيں، يہي وجہ ہے کہ وہ فلسطيني رہنماوں کے درميان مذاکرات کو روکنے کي بھرپور کوششيں کرتے چلے آرہے ہيں-رشق نے مزيد کہا کہ امريکہ اور اسرائيل چاہتے ہين کہ فلسطينيوں کےدرميان اختلافات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ناجائز مطالبات مسلط کريں اور توسيع پسندانہ مقاصد کو آگے بڑھاتے رہيں ليکن فلسطيني عوام کي ہوشياري نے انکي اميدوں پر پاني پھير ديا ہے-

........

/169